صلح جوئی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - صلح و آتشی سے رہنا، مصالحت کرنا۔ "مناسب یہی ہے کہ اس کا تدارک گفت و شنید اور صلح جوئی سے کیا جائے۔"      ( ١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ١٢٧ )

اشتقاق

عربی اور فارسی اسما سے مرکب 'صُلْح جو' کے ساتھ فارسی قاعدے کے تحت 'ئی' بطور لاحقہ کیفیت بڑھانے سے مرکب 'صلح جوئی' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٩١٥ء کو "نیم رخ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - صلح و آتشی سے رہنا، مصالحت کرنا۔ "مناسب یہی ہے کہ اس کا تدارک گفت و شنید اور صلح جوئی سے کیا جائے۔"      ( ١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ١٢٧ )

جنس: مؤنث